کراچی کے گل پلازہ میں جاری سرچ آپریشن کے دوران میزنائن فلور کی ایک دکان سے 30 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس کے بعد سانحے میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 61 ہو گئی ہے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ یہ تمام لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں، جہاں لوگ خود کو بچانے کے لیے بند تھے۔
ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی دکان کی نشاندہی کرتی ہے۔ اطلاع ملنے پر تیسرے فلور پر ریسکیو آپریشن وقتی طور پر روکا گیا، اور عمارت سے ملبہ ہٹانے کا کام بھی معطل کر دیا گیا ہے تاکہ پہلے لاشیں نکالی جا سکیں۔
ڈی سی ساؤتھ نے بتایا کہ میزنائن فلور سے 20 سے 25 افراد کی باقیات برآمد ہوئی ہیں، تاہم ڈی این اے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ یہ باقیات کتنے افراد کی ہیں۔
ان کے مطابق سانحہ میں لاپتہ افراد کی اکثریت دکاندار ہیں، اور اب تک 87 میں سے 60 افراد کی لاشیں یا باقیات برآمد ہو چکی ہیں۔
حادثے کے مقام پر اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم تھرمل کیمرے کے ذریعے سرچ آپریشن کر رہی ہے، جبکہ ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق متاثرہ مقامات کی تھرمل اسکیننگ بھی جاری ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ اب تک دو دکانوں سے 21 انسانی باقیات سول اسپتال لائی گئی ہیں، اور فی الحال یہ تصدیق ممکن نہیں کہ یہ باقیات کتنے افراد کی ہیں۔
کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈیٹا کے مطابق 86 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، اور ریسکیو اور سرچ آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ مزید ممکنہ متاثرین تک رسائی حاصل کی جا سکے۔


