کراچی کے گل پلازہ میں واقع سانحے کے حوالے سے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے تصدیق کی ہے کہ دو دکانوں سے برآمد ہونے والی باقیات کا ڈی این اے نہیں لیا جا سکتا۔
کراکری کی دکان کے مالک نے بتایا کہ واقعے کے وقت ان کے کزن اور ملازمین سمیت دکان میں بڑی تعداد میں خواتین اور دیگر افراد موجود تھے۔
ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق اب تک دو دکانوں سے 21 انسانی باقیات برآمد ہوئی ہیں، تاہم یہ تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ یہ 21 لاشیں ہیں یا مختلف افراد کی باقیات ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملبے سے اب لاشوں کی بجائے انسانی باقیات مل رہی ہیں، جن کی حالت انتہائی خراب ہے، اور ان میں ٹوٹی ہوئی ہڈیاں اور دانت شامل ہیں۔
ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کے باعث ڈی این اے کے سیمپلز بھی نہیں لیے جا سکتے، جس کے نتیجے میں باقیات کو ورثا کے حوالے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔


