ایران کے پاس غدیر کلاس کی 21 آبدوزیں موجود ہیں۔ یہ آبدوزیں اگرچہ سائز میں چھوٹی ہیں، مگر انتہائی زیادہ نقل و حرکت (مینور ایبیلٹی) رکھتی ہیں
یہ آبدوزیں بدنی ساخت کی وجہ سے کسی حد تک ریڈار سے بچنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ ان کا سب سے خطرناک ہتھیار تیز رفتار حوت ٹارپیڈوز ہیں۔
اس وقت ان میں سے دس آبدوزیں آبنائے ہرمز میں تعینات کر دی گئی ہیں اور دشمن کے خلاف جارحانہ دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔


