ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے واضح کیا ہے کہ بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے اور پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔
ہفتہ وار بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی مسافروں کے لیے ایک محفوظ اور کھلا ملک ہے۔
ان کے مطابق امریکا کی جانب سے جاری نئی سفری ہدایت نامہ ڈاؤن اسکیل نہیں بلکہ معمول کی اپڈیٹ ہے، جس میں بعض سابقہ سکیورٹی نکات نکال دیے گئے ہیں، اور اس اپڈیٹ کے بعد امریکی شہریوں کے لیے پاکستان کا سفر مزید آسان ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی ویزا پابندیوں کے خاتمے کے لیے اسلام آباد اور واشنگٹن میں بات چیت جاری ہے اور پاکستان کو امید ہے کہ جلد اسے ویزا پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے نیک نیتی کے تحت بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی، جس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا، تعمیر نو میں معاونت اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کا قیام ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کے علاوہ سات دیگر مسلم ممالک بھی اس پلیٹ فارم کا حصہ ہیں جن میں سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر شامل ہیں۔ بورڈ آف پیس کا آغاز گزشتہ برس ستمبر میں مشترکہ کوششوں سے کیا گیا، جو غزہ اور مسئلہ فلسطین کے لیے امید کی کرن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو برس سے غزہ کے عوام شدید تباہی اور انسانی بحران کا شکار ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی کوششیں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکام رہی ہیں۔
بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری حاصل ہے اور یہ اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون پلیٹ فارم ہے۔
ترجمان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان نے بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔


