ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جمعے کو شروع ہونے کا امکان ہے۔اگرچہ ان مذاکرات کے مقام اور وقت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم امریکا کی جانب سے دوبارہ مذاکرات کی پیشکش نے خطے کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کی مذاکرات کی پیشکش دراصل اس کی حالیہ ناکامیوں کا اعتراف ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے رواں سال جون اور جولائی میں صہیونی ریاست کی قیادت میں فوجی دباؤ، اسنیپ بیک پابندیوں کی کوشش، داخلی بدامنی اور مبینہ نیم بغاوت کی سازشوں سمیت بارہا فوجی دھمکیوں اور خطے میں بھاری عسکری نقل و حرکت کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی۔
مقصد یا تو ایرانی نظام کی تبدیلی تھا یا اسے مکمل طور پر جھکانا۔تاہم ان تمام اقدامات میں ناکامی کے بعد امریکا کو دوبارہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔

ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کی بات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اپنے فوجی اور سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ماضی میں واشنگٹن نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے میزائل پروگرام، علاقائی اثرورسوخ، داخلی سیاسی معاملات اور “صفر افزودگی” جیسی سخت شرائط عائد کی تھیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ ان شرائط کا اصل مقصد ملک کو غیر مسلح کرنا، اس کی دفاعی صلاحیت کمزور کرنا اور قومی خودمختاری کو متاثر کرنا تھا۔

تاہم موجودہ صورتحال میں صرف جوہری پروگرام تک محدود مذاکرات زیر غور ہیں اور ایران نے دیگر کسی شرط کو تسلیم نہیں کیا۔
اطلاعات کے مطابق امریکا بھی بغیر پیشگی شرائط اور “صفر افزودگی” کے مطالبے کے بغیر بات چیت پر آمادہ ہوگیا ہے۔

ایرانی حلقوں کا کہنا ہے کہ حقیقت میں یہ امریکا کی مجبوری ہے، کیونکہ ایران پہلے بھی مذاکرات میں شامل تھا جبکہ امریکا نے فوجی دباؤ اور بدامنی کے ذریعے زیادہ مراعات حاصل کرنے کی کوشش کی، جو ناکام رہی۔
دوسری جانب بعض مبصرین مذاکرات کو ممکنہ فریب قرار دیتے ہیں، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایرانی قیادت کے مطابق امریکا جانتا ہے کہ وسیع جنگ اس کے لیے ممکن نہیں، جبکہ محدود جنگ بھی اس وقت خطرناک ہو سکتی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر امریکا نے جنگ مسلط کی تو یہ صرف محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ یہی خدشہ امریکا اور اسرائیل کو کسی بھی عسکری مہم جوئی سے روک رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بدلتی صورتحال میں مذاکرات ہی واحد قابل عمل راستہ دکھائی دیتا ہے، تاہم آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ یہ عمل واقعی سفارتی پیش رفت ثابت ہوتا ہے یا محض ایک عارضی حکمت عملی۔


