چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) اور ہلالِ جرأت، نے آج کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہیں صوبے میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور اندرونی سلامتی سے متعلق جاری آپریشنز پر جامع بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں حالیہ دہشت گرد حملوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی، جنہیں بھارت کی سرپرستی میں سرگرم بین الاقوامی طور پر نامزد دہشت گرد تنظیم ’’فتنہ الہندستان‘‘ کی جانب سے منظم کیا گیا تھا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی فورسز کے فوری، بھرپور اور جارحانہ ردِعمل نے دہشت گردوں کے اس مذموم مقصد کو ناکام بنا دیا، جس کا مقصد بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچانا تھا۔
اس موقع پر ریاست کی عملداری کو مزید مضبوط بنانے، عوام اور اہم تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی دہشت گرد یا اس کے سہولت کار کو نہیں بخشا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی جواز کے تحت تشدد اور دہشت گردی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آرمی چیف نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور قربانیوں کو سراہا، جنہوں نے پاکستان دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا اور امن و امان برقرار رکھا۔
بعد ازاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے آرمی، فرنٹیئر کور بلوچستان اور پولیس کے زخمی اہلکاروں سے ملاقات کی۔
آرمی چیف نے زخمی جوانوں کے بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے مادرِ وطن کے دفاع میں ان کی جرأت، ثابت قدمی اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔اس سے قبل کوئٹہ آمد پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال کمانڈر کوئٹہ کور نے کیا۔


