وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے خودکش حملے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں خودکش بمبار کی شناخت کر لی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی تربیت حاصل کی اور وہ متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا تھا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں ہونے والی ہر دہشت گرد کارروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ کے شواہد موجود ہیں۔ حکومتی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ پوری قوم ایسی مذموم اور بزدلانہ کارروائیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے۔
دوسری جانب، اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد و امام بارگاہ خدیجتُہ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کو مسجد میں داخلے سے روکے جانے پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں شدید جانی نقصان ہوا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے قبل فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ دھماکے کے فوراً بعد پولیس، فوج کے دستوں اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور سیکیورٹی آپریشن شروع کر دیا۔
تمام زخمیوں کو فوری طور پر پمز اسپتال اور پولی کلینک منتقل کر دیا گیا، جبکہ وفاقی دارالحکومت کے تمام بڑے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔


