واشنگٹن میں امریکی حکام نے جمعہ کے روز بتایا کہ 2012 میں بنغازی میں امریکی مشن پر حملے کے پسِ پردہ اہم کرداروں میں سے ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس حملے میں امریکی سفیر اور تین دیگر امریکی ہلاک ہو گئے تھے۔

اٹارنی جنرل پام بونڈی نے کہا کہ مشتبہ شخص، زبیر البکوش، کو امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے اور اس پر قتل سمیت دیگر الزامات عائد کیے جائیں گے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بونڈی اور کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ البکوش کو کہاں گرفتار کیا گیا، صرف اتنا کہا کہ گرفتاری “بیرونِ ملک” عمل میں آئی۔

بونڈی نے کہا، اب البکوش امریکی سرزمین پر امریکی انصاف کا سامنا کرے گا۔ ہم اس مبینہ دہشت گرد کے خلاف قانون کے تحت بھرپور کارروائی کریں گے۔ اسے قتل، دہشت گردی، آتش زنی اور دیگر الزامات کا سامنا ہوگا۔
ویڈیو فوٹیج میں ایک عمر رسیدہ سفید بالوں والا شخص طیارے کی سیڑھیاں اترنے میں دشواری محسوس کرتا دکھائی دیتا ہے، جس کے بعد اسے اسٹریچر پر منتقل کیا جاتا ہے جہاں وہ کانپتا ہوا لیٹا ہے۔


گیارہ ستمبر 2012 کو لیبیا کے دوسرے بڑے شہر میں واقع امریکی قونصل خانے پر حملے میں امریکی سفیر کرس اسٹیونز اور تین دیگر امریکی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کا الزام القاعدہ سے منسلک ایک گروہ پر عائد کیا گیا تھا۔


