وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کی مکمل منصوبہ بندی داعش نے افغانستان میں کی، جبکہ حملے کا ماسٹر مائنڈ پاکستانی حکام کی حراست میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی نے واقعے سے منسلک تمام افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ نوشہرہ اور پشاور میں کارروائیوں کے دوران چار سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا نے بھی آپریشن میں معاونت فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار ماسٹر مائنڈ کا تعلق کالعدم داعش سے ہے اور حکام کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ حملہ آور کو کس طرح لایا گیا اور اسے افغانستان میں تربیت دی گئی۔
محسن نقوی کے مطابق چھاپے کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کا ایک اہلکار شہید جبکہ چند دیگر زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت حالتِ جنگ میں ہے اور کمیونٹی انٹیلی جنس انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگرچہ ایک دھماکا ہوا، تاہم سکیورٹی اداروں نے 99 ممکنہ حملے ناکام بھی بنائے۔
وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ بھارت کر رہا ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اس نے اپنا بجٹ بڑھا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایک دہشت گرد کو 500 ڈالر ملتے تھے، جو اب بڑھا کر 1500 ڈالر کر دیے گئے ہیں، جبکہ مئی کے واقعات کے بعد بھارت نے دہشت گردی کے لیے بجٹ تین گنا بڑھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں میں کوئی بھی حملہ آور بچ کر نہیں گیا اور بی ایل اے کی ویڈیوز بھارتی میڈیا پر نشر ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ “دشمن دشمن ہوتا ہے، اس کی کیٹیگریز نہیں بنتیں”، اور پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے والوں کو کسی تقسیم میں نہ دیکھا جائے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں دہشت گرد استعمال کر رہے تھے، اور متعلقہ پلیٹ فارمز کو انہیں بند کرنے کا کہا گیا ہے، بصورت دیگر دیگر اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے سکیورٹی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے 93 داخلی راستے ہیں اور ریڈ زون کی حفاظت بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ اسلام آباد پولیس کی 80 فیصد نفری کی عمر 50 سال سے زائد ہے۔


