امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کے دوران تقریباً 10 طیارے گرائے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جنگ پر **ٹیرف (محصولات) کی دھمکی نہ دی گئی ہوتی تو صورتحال ایٹمی جنگ تک پہنچ سکتی تھی۔
ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان اور بھارت اس وقت شدید لڑائی میں مصروف تھے اور حالات بہت سنگین تھے، لیکن امریکا کی تجارتی پالیسی اور دباؤ نے صورتحال کو قابو میں رکھنے میں مدد کی۔ ان کے بقول انہوں نے متعدد جنگیں روکی ہیں اور اسی سلسلے میں پاک بھارت تنازع کو بھی روک دیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے ساتھ ہی ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا، اور کہا کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرے گا تو یہ اس کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جھڑپیں ایٹمی تنازعے میں بدل سکتی تھیں، تاہم انہوں نے ٹیرف اور سفارتی دباؤ کے ذریعے حالات پر قابو پایا۔
امریکی صدر کے ان بیانات کے بارے میں مختلف بین الاقوامی میڈیا اور صحافی بھی رپورٹ کر رہے ہیں، جبکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی 2025 میں جھڑپوں کے بعد امریکہ کی ثالثی اور کشیدگی کم کیے جانے کے بیانات پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں


