ابوظہبی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ترک صدر کے متحدہ عرب امارات کے دورے کو اچانک مؤخر کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اماراتی صدر کی اچانک علالت کے باعث کیا گیا۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر Mohammed bin Zayed Al Nahyan کی طبیعت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، تاہم اس حوالے سے اماراتی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع میں قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ آیا صدر واقعی علیل ہیں یا پھر انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا ہے۔
بعض دعوؤں میں کہا جا رہا ہے کہ ان کے بھائی Tahnoun bin Zayed Al Nahyan، جنہیں سعودی حمایت حاصل ہونے کی بات کی جاتی ہے، ممکنہ طور پر اقتدار کی تبدیلی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ چند ہفتے قبل محمد بن زاید نے مبینہ بغاوت کے خدشے کے پیش نظر اپنے بھائی کو بعض عہدوں سے ہٹا کر اپنے بیٹے Khaled bin Mohammed Al Nahyan کو اہم ذمہ داریاں سونپی تھیں۔
تاہم ان تمام دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور اماراتی حکومت کی جانب سے کسی قسم کی اندرونی سیاسی تبدیلی یا اختلاف کی خبر کی تردید یا توثیق سامنے نہیں آئی۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات کے سابق صدر Khalifa bin Zayed Al Nahyan بھی اپنی وفات سے قبل کئی برس تک عوامی منظرنامے سے غائب رہے تھے۔ ان کی وفات کا باضابطہ اعلان بعد میں کیا گیا تھا، جبکہ اس دوران عملی طور پر حکومتی امور محمد بن زاید ہی سنبھال رہے تھے، جو بعد ازاں باضابطہ طور پر صدر منتخب ہوئے۔
تاہم موجودہ صورتحال کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے قبل سرکاری مؤقف اور مستند ذرائع سے تصدیق کا انتظار ضروری ہے۔


