پکتیکا: افغانستان کے مختلف علاقوں میں پاکستان کی جانب سے دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں کئی افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق پکتیکا کے علاقے مورگاہ میں واقع مبینہ مدرسہ بنوسی مدرسہ میں دھماکے کے نتیجے میں 10 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ مبینہ طور پر بعض شدت پسند کمانڈروں کے نیٹ ورک سے منسلک بتایا جاتا ہے۔

اسی دوران جلال آباد کے ضلع کاما میں بھی دو اہداف کو جنگی طیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی میں شدت پسندوں کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے، تاہم آزاد ذرائع سے فوری تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
مزید اطلاعات کے مطابق پکتیکا کے علاقے برمل میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جہاں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں میں متعدد جنگجو ہلاک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق طالبان کمانڈر اختر محمد کے پکتیا کے علاقے میں مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم سرکاری سطح پر اس کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پار خودکش حملوں کے مبینہ جواب میں دہشتگرد نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا تاکہ مستقبل کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب افغانستان کے متعلقہ حکام کی جانب سے ان واقعات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صورتحال پر مزید معلومات کا انتظار ہے۔


