تہران: ایران سے منسوب ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کوئی فوجی محاذ آرائی ہوئی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ موجودہ عالمی نظام کے لیے سنگین نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔
علاقائی ٹی وی چینل المیادین کی رپورٹ کے مطابق تہران میں فیصلہ سازی کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع نے اس ممکنہ تصادم کو “انتہائی خطرناک مرحلہ” قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی جنگ کے نتیجے میں بین الاقوامی نظام میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں اور موجودہ عالمی ڈھانچہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
جنگ سے ہونے والے نقصانات سے متعلق اہم نکات
بین الاقوامی نظام میں دراڑیں: ایرانی ذرائع کے مطابق ممکنہ جنگ صرف علاقائی نوعیت کی نہیں ہوگی بلکہ یہ عالمی سطح پر سیاسی و جغرافیائی تبدیلیوں کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
بڑی طاقتوں کی نقل و حرکت: رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی بڑے تصادم کی صورت میں روس اور چین عالمی توجہ کی تقسیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مفادات کے مطابق نئی سیاسی و جغرافیائی صف بندی کی کوشش کر سکتے ہیں۔

عالمی توازن پر اثرات: ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ممکنہ محاذ آرائی ایران کی سرحدوں سے باہر تک پھیل سکتی ہے اور بین الاقوامی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماسکو کے لیے اشارہ: رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطے میں کسی بڑے دھماکا خیز واقعے کی صورت میں یوکرین کے معاملے پر روس کی حکمتِ عملی بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر ایران کو نقصان پہنچایا گیا تو یہ ایک ایسا “ڈیٹونیٹر” ثابت ہوگا جو دنیا کے موجودہ نقشے اور عالمی سیاسی ترتیب کو بدل سکتا ہے۔
تاہم ان بیانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی اور نہ ہی دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے اس پر فوری ردعمل سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر سفارتی کوششیں مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔


