اسلام آباد سے بڑی عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشرہ بی بی کو مختلف مقدمات میں ضمانتیں مل گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکا نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف درج 6 جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف 2 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد دونوں کی ضمانتیں 50،50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلیں۔
بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی کے واقعات، اقدام قتل، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور توشہ خانہ کی مبینہ جعلی رسیدوں سے متعلق مقدمات درج ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کی مبینہ جعلی رسیدوں کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں زیر سماعت تھا۔
سماعت کے دوران پراسیکوشن کی جانب سے راجہ نوید حسین کیانی، مظہر بشیر اور طاہر کاظم پیش ہوئے اور ضمانت کی مخالفت کی۔ اسٹیٹ پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، لہٰذا انہیں ضمانت کا ریلیف نہ دیا جائے۔
دوسری جانب دفاع کی نمائندگی کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ مقدمات میں غیر معمولی تاخیر کی گئی، ریاست کو متعدد بار مہلتیں دی گئیں اور کئی مواقع پر جیل حکام کو پیش کرنے کے عدالتی احکامات پر عمل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ضمانتیں میڈیکل بنیادوں پر نہیں بلکہ میرٹ پر طلب کی جا رہی ہیں اور کئی مقدمات میں نہ تو تفتیش مکمل کی گئی اور نہ ہی چالان پیش ہوا۔
عدالت نے دورانِ سماعت پراسیکوشن سے استفسار کیا کہ کیا توشہ خانہ کی مبینہ رسید برآمد کی گئی یا اس کا فرانزک کرایا گیا؟ پراسیکوشن کے مطابق رسید برآمد نہیں ہوئی۔ عدالت نے غیر تسلی بخش جوابات پر ضمانت منظور کرنے کا حکم سنا دیا۔
ادھر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں 26 نومبر کے پی ٹی آئی احتجاج کیس میں بھی بشریٰ بی بی کو ریلیف مل گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عامر ضیاء نے اس مقدمے میں بھی 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کرلی۔
عدالتی فیصلوں کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور آئندہ سماعتوں پر نظریں جم گئی ہیں۔


