ایران کی خبر رساں ادارے ارنا نیوز کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہم عنقریب جنگ ختم ہونے کے بعد جشن فتح منائيں گے
ارنا کے مطابق وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج پیر 16 مارچ 2026 کو ترجمان وزارت خارجہ کی ہفتے وار پریس کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم سخت لیکن قابل فخر ایام گزارے ہیں۔ ہم ایک جنگ سے گزر چکے ہیں اور دوسری جنگ سے گز رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے شہید دیئے ہیں۔ عوام، معصوم بچے، حکام، فوجی کمانڈران اور ان میں سر فہرست رہبر عظیم الشان شہید ہوگئے۔ البتہ آپ درجہ شہادت پر فائز ہونے کی لیاقت رکھتے تھے۔ یہ شہادت، آپ کی مجاہدانہ زندگی کا نشان افتخار ہے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ دشمن چاہتا ہے کہ ایران غیر مشروط طور پر گھٹنے ٹیک دے۔ اس لحاظ سے یہ سال (21 مارچ 2025 کو شروع ہونے والا اختتام پذیرایرانی سال) ہمارے لئے سخت لیکن اسی کے ساتھ عزت و افتخار کا حامل تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس سال کے شروع میں ( جون 2025 میں) ہم پر جنگ مسلط کی گئی اور ہم سے غیر مشروط طور پر گھٹنے ٹیک دینے کا مطالبہ کیا گيا لیکن جنگ کے 12 دن بعد غیر مشروط جنگ بندی کی درخواست کی گئی
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اس بار بھی وہی سیناریو، البتہ زیادہ شدت کے ساتھ، دوہرایا گیا اور اس خام خیالی کے تحت کہ ایران غیر مشروط طور پر جھک جائے گا، جارحین نے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔
سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ہمارے دشمنوں نے پہلے ہی دن بہت وسیع حملے کئے اور دوبارہ غیر مشروط طور پر گھٹنے ٹیک دینے کا مطالبہ کیا لیکن آج جنگ کے تقریبا 15 دن گزرنے کے بعد آبنائے ہرمز کی سیکورٹی کے لئے ان لوگوں سے متوسّل ہوئے ہیں جنہیں کل تک اپنا دشمن کہتے تھے اور دوسرے ملکوں سے درخواست کررہے ہیں کہ ان کی مدد کریں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے نقطہ نظر سے آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے لیکن ہمارے دشمنوں کے لئے جنہوں نے ہمارے ملک کے خلاف بزدلانہ جارحیت کی ہے اور ان کے اتحادیوں کے لئے بند ہے۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہم قابل فخراستقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی تزلزل کے بغیر مقاومت جاری رکھیں گے۔
انھوں نے کہا کہ گزشتہ رات امریکا کے سی بی ایس ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں ہم نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ہم نے نہ کوئی پیغام بھیجا ہے اور نہ ہی جنگ بندی کی درخواست کی ہے لیکن یہ جنگ اس طرح ختم ہونی چاہئے کہ پھر نہ دوہرائی جاسکے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ ہم جنگ بندی نہیں چاہتے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم جنگ پسند ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم چاہتے کہ اس بار جنگ اس طرح ختم ہو کہ ہمارے دشمن دوبارہ حملے اور جارحیت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکيں۔
انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اب تک انہیں اچھا سبق مل چکا ہے اور وہ سمجھ چکے ہیں کہ ان کا مقابلہ ایسی قوم سے ہے جو اپنے دفاع پر مصمم ہے اور جب تک چلے، جنگ جاری رکھنے کے لئے تیار ہے۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ انہیں دنوں میں، یعنی عنقریب ہم فتح کا جشن منائیں گے۔


