امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کو عوامی سطح پر مقبول نہ ہونے پر نیوز میڈیا پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
سی این این کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ ہر روز ایک یا زائد شکایات رجسٹر کراتی ہے اور جنگ سے متعلق خبریں پیش کرنے والے میڈیا اداروں پر سخت رویہ اختیار کرتی ہے۔
صدر ٹرمپ خود میڈیا کو "کریمنل” اور "غیر محب وطن” کہنے سے نہیں چوکتے، جبکہ فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن کے چیئرمین برینڈن کیر، جنہیں ٹرمپ نے منتخب کیا ہے، کئی بار براڈکاسٹرز کو ان کے نشریاتی لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
سی این این کے سینیئر سیاسی مبصر ڈیوڈ ایکزل روڈ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر جنگ کے بارے میں خبریں عوامی ردعمل کے لحاظ سے مثبت نہیں ہوتیں تو خبروں کے ذریعے جنگ کی رپورٹ کرنے والوں پر دباؤ ڈالنا بہتر ہوگا۔
اس دوران صدر ٹرمپ سخت سوالات کے جواب میں محض "فیک نیوز” کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا میں جنگی پالیسی اور میڈیا کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔
یہ صورتحال عالمی سطح پر امریکی حکومت کی صحافتی آزادی پر دباؤ ڈالنے اور جنگی خبریں کنٹرول کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔


