ایران میں گرائے گئے امریکی F-15E لڑاکا طیارے کے دوسرے پائلٹ کو بازیاب کروانے کے لیے کیے گئے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات سامنے آگئیں ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ آپریشن انتہائی خفیہ اور پیچیدہ تھا، جس میں امریکی فورسز نے فضائی اور زمینی طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔
زخمی پائلٹ تقریباً دو دن تک جنوبی مغربی ایران کے پہاڑی علاقے میں ایک دراڑ میں چھپا رہا، جبکہ ایرانی فورسز اور ملیشیا ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے اسے تلاش کر رہی تھیں۔
پائلٹ نے زمین پر اتر کر اپنا ایمرجنسی بیکن ایکٹیویٹ کیا اور ایک موقع پر پیغام بھیجا ‘گاڈ اس گُڈ’، تاہم ابتدا میں واشنگٹن میں اس پیغام کو ممکنہ جال سمجھا گیا۔
اتوار کی صبح امریکی کمانڈوز نے شدید فائرنگ اور فضائی کارروائی کے بعد تقریباً 200 میل اندر ایران میں موجود پائلٹ تک رسائی حاصل کی اور اسے بحفاظت بازیاب کروایا۔
اس دوران زمین پر موجود امریکی طیارے بھی تباہ کیے گئے تاکہ حساس ٹیکنالوجی دشمن کے ہاتھ نہ لگے۔
طیارہ گرنے کا واقعہ جمعے کو پیش آیا، جب ‘ڈیوڈ 44’ کال سائن والے F-15E اسٹرائیک ایگل طیارے کو ایرانی فورسز نے مار گرایا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس کے سربراہ جنرل ڈین کین نے فوری طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صورتحال سے آگاہ کیا، جس پر ٹرمپ نے ریسکیو آپریشن کی منظوری دی۔
آپریشن میں تقریباً 100 اسپیشل فورسز اہلکار، درجنوں جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر شامل تھے، جبکہ سی آئی اے نے خفیہ معلومات فراہم کیں اور ایرانی فورسز کو گمراہ کیا۔
چار B-1 بمبار طیاروں نے تقریباً 100 سیٹلائٹ گائیڈڈ بم گرائے، جبکہ MQ-9 ریپر ڈرونز نے پائلٹ کے قریب آنے والے ممکنہ دشمنوں کو نشانہ بنایا۔
ابتدا میں آپریشن کی کوشش ناکام ہوئی، جس میں دو H-6 ہیلی کاپٹروں پر زمین سے فائرنگ کی گئی، جبکہ دو MC-130J طیارے عارضی بیس پر زمین میں دھنس گئے۔
بعد ازاں چھوٹے طیاروں کے ذریعے ٹیم کو ہدف کے قریب پہنچایا گیا اور اسرائیل نے انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے آپریشن میں مدد فراہم کی۔
آپریشن مکمل ہونے کے بعد امریکی فورسز نے تباہ شدہ طیارے اور ہیلی کاپٹرز کو محفوظ رکھنے کے لیے ضائع کر دیا۔


