امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جسے ماہرین خطے میں کشیدگی میں کمی کا فوری اثر قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی منڈی کے اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل کی قیمت میں 14.41 ڈالر فی بیرل کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 94.86 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جو 16.69 ڈالر فی بیرل کم ہو کر 96.26 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے امکانات نے عالمی توانائی منڈی کو فوری طور پر متاثر کیا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں استحکام تیل کی سپلائی کے تسلسل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی جنگی خطرات کم ہوتے ہیں، تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں کا خدشہ بھی کم ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں کمی آتی ہے۔
مزید برآں، آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں کمی بھی قیمتوں میں گراوٹ کی ایک بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام آ سکتا ہے، جس کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔


