واشنگٹن سے جاری رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی ٹیم اسلام آباد بھیج رہے ہیں، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے اور مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ہفتے کی صبح اسلام آباد میں ہوگا۔
کیرولین لیوٹ کے مطابق ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے معقول تجاویز دی ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کی سرخ لکیریں برقرار ہیں اور وہ آبنائے ہرمز کھلنے کی توقع رکھتے ہیں۔
اس سے قبل پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں ایرانی صدر نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اقدامات پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق جامع مذاکرات میں ایران کی جانب سے اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور اسٹیو وٹکوف شریک ہوں گے، اور ان مذاکرات کا مقصد خطے میں پائیدار امن اور آبنائے ہرمز کی بحالی ہے۔


