حکومتِ پاکستان نے ملک کے قدیم اور منفرد ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا، جہاں خیبرپختونخوا کی خوبصورت وادیِ کیلاش کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔
اس اہم پیش رفت کو پاکستان کی ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی شناخت کے عالمی اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین نے اسے حکومتی کوششوں کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
وادیِ کیلاش، جو کوہِ ہندوکش کے دور افتادہ علاقوں بمبوریت، رمبور اور بریر پر مشتمل ہے، اپنی قدیم تہذیب، منفرد رسم و رواج، روایتی طرزِ زندگی اور ثقافتی ورثے کے باعث دنیا بھر میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
یونیسکو کی جانب سے اس خطے کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ کیلاش کی تہذیب نہ صرف پاکستان بلکہ پوری انسانیت کے مشترکہ ثقافتی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وادیِ کیلاش کا جداگانہ جغرافیہ اس کی منفرد ثقافتی شناخت کو صدیوں تک محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
یہاں کے رہن سہن، تہوار، موسیقی، مذہبی روایات اور روایتی فنون ایک غیر معمولی طور پر محفوظ قدیم معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں، جسے دنیا بھر میں ایک نادر ثقافتی منظرنامہ تصور کیا جاتا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وادیِ کیلاش کو یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل کیے جانے سے پاکستان کا مثبت تشخص عالمی سطح پر مزید اجاگر ہوگا، جبکہ سیاحت، ثقافتی تحقیق اور مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیش رفت پاکستان میں مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی، رواداری اور اقلیتی ثقافتوں کے تحفظ کے عالمی اعتراف کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرینِ ثقافت نے اس کامیابی کو پاکستان کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت مستقبل میں بھی ملک کے دیگر تاریخی و ثقافتی مقامات کے تحفظ اور عالمی سطح پر ان کے تعارف کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی۔


