واشنگٹن میں مقیم پاکستانی صحافی فیصل علی شاہ کے مطابق امریکی کانگریس کی تحقیقی شاخ کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران امریکہ کو اب تک درجنوں جنگی طیاروں، ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ جنگی اخراجات بڑھ کر 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ بھر میں فضائی، بحری اور میزائل حملے شامل رہے۔ اپریل میں جنگ بندی کے باوجود مختلف علاقوں میں جھڑپیں دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے اب تک نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق کم از کم 42 فضائی اثاثے تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔ ان میں F-15E اسٹرائیک ایگل، F-35A، A-10 تھنڈربولٹ، KC-135 ٹینکر، E-3 AWACS، خصوصی آپریشن طیارے، ریسکیو ہیلی کاپٹر اور متعدد جدید ڈرون شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تین F-15E لڑاکا طیارے کویت کے اوپر “فرینڈلی فائر” کا نشانہ بنے جبکہ ایک اور F-15E ایران میں مار گرایا گیا۔ اسی طرح ایک F-35A کو ایرانی زمینی فائر سے نقصان پہنچا، جبکہ ایک A-10 طیارہ دشمن کی فائرنگ کے بعد تباہ ہوگیا۔
امریکی فضائیہ کے لیے سب سے بڑا نقصان ڈرونز کے شعبے میں رپورٹ کیا گیا، جہاں 24 MQ-9 ریپر ڈرونز کے تباہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر کئی امریکی طیاروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان نقصانات نے امریکی کانگریس میں کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن میں فوجی تیاری، دفاعی بجٹ، فضائی برتری، اور امریکی دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت شامل ہیں۔
کانگریس اس بات کا جائزہ لے سکتی ہے کہ آیا امریکی فوج جدید جنگی ماحول میں بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے یا نہیں۔
قائم مقام پینٹاگون کمپٹرولر جولز ہرسٹ نے 12 مئی کو ایک سماعت میں بتایا تھا کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کی لاگت 29 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس میں بڑی رقم تباہ شدہ فوجی سازوسامان کی مرمت اور تبدیلی پر خرچ ہوگی۔


