ایران نے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کے سلسلے میں ایک نئی تجویز کا مسودہ امریکی حکام کو بھجوا دیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کیے گئے نئے مسودے میں متعدد نکات شامل ہیں جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو کم کرنا اور کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اگرچہ اس تجویز کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور باہمی اعتماد سازی سے متعلق امور شامل ہو سکتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے بعض بااثر پالیسی ساز حلقوں اور تھنک ٹینکس نے ایرانی تجویز کا ابتدائی جائزہ لینے کے بعد اسے "قابلِ قبول” قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تجویز میں ایسے نکات شامل ہیں جو دونوں فریقوں کے لیے قابلِ عمل بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران اس مسودے پر مثبت پیش رفت کرتے ہیں تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس پیش رفت کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال، اقتصادی پابندیوں اور جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ابھی تک اس تجویز پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریق پس پردہ رابطوں کے ذریعے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز اس حوالے سے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اگر دونوں ممالک بعض بنیادی اختلافات پر پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایک نئے معاہدے یا مفاہمت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی سکیورٹی کے معاملات پر شدید اختلافات چلے آ رہے ہیں، تاہم حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے ایک بار پھر کسی ممکنہ پیش رفت کی امید پیدا کر دی ہے۔


