وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، جس میں دفاع، ترقیاتی منصوبوں، سماجی تحفظ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سمیت متعدد اہم اعلانات کیے گئے ہیں۔
بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ نے اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برس بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا اور آج دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو تسلیم کر رہی ہے، جبکہ کئی ممالک پاکستانی لڑاکا طیاروں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ سیلابی نقصانات اور خطے میں کشیدگی کے باوجود ملکی معیشت میں بہتری آئی ہے اور رواں مالی سال شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک جا پہنچا جبکہ فی کس آمدنی بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور ترسیلات زر رواں سال 41 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا امکان ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد اور افراط زر کی اوسط شرح 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایف بی آر محصولات کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ مجموعی وفاقی اخراجات 18 ہزار 771 ارب روپے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ قومی دفاع حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے دفاعی ضروریات کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے جبکہ قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ترقیاتی منصوبوں میں این-25 شاہراہ کو دو رویہ بنانے، سکھر-حیدرآباد موٹروے، ایم ایل ون منصوبے، آبی ذخائر، پن بجلی منصوبوں، شہری ترقی، سستے گھروں کی تعمیر اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترجیحات میں شامل ہیں۔
سماجی شعبے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھا کر 838 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ صحت کے منصوبوں کے لیے 25 ارب اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف آمدنی سلیبز میں ٹیکس ریلیف اور 9 فیصد سرچارج کے خاتمے کا بھی اعلان کیا گیا۔
بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، آئی ٹی برآمدات کے لیے ٹیکس مراعات میں توسیع، خواتین کی صحت سے متعلق مصنوعات اور مانع حمل اشیا پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا، جبکہ درآمدی اور بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے اور بعض الیکٹرک گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی زیر غور ہے جبکہ الیکٹرک موٹرسائیکلوں، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ مراعات برقرار رکھی جائیں گی۔


