ایران نے جنوبی علاقوں پر امریکی فضائی حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے بحرین اور کویت میں امریکی ٹھکانوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے زریعے حملے کئے ہیں ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں کا "تباہ کن اور فیصلہ کن جواب” دیا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا نے سرک، بندر عباس اور جزیرہ قشم سمیت مختلف مقامات پر 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام، نگرانی (سرویلنس) کے مراکز، اینٹی شپ کروز میزائل، ڈرون تنصیبات اور پاسداران انقلاب کی بحری کشتیوں کے اڈے شامل ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا اور امریکی حملوں کا بھرپور اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔
دریں اثنا، ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے بھی امریکی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج نے کھلی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران کی مسلح افواج امریکی حملوں کا منہ توڑ جواب دیں گی۔
ایرانی فوجی کمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے لیے محفوظ بحری راستے کا تعین صرف ایران کرے گا۔


