ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا اور نہ ہی پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ جب دکاندار اور تاجر ملک کی مالی صورتحال، کرنسی کی قدر میں کمی اور ملکی و غیر ملکی زرِ مبادلہ کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھتے ہیں تو کاروباری ماحول غیر مستحکم ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ کاروبار نہیں کر سکتے، جو کہ درست بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی حکام اس مسئلے کو تسلیم کرتے ہیں اور صدر سمیت اعلیٰ قیادت اس کے حل کے لیے کوششیں کر رہی ہے، تاہم یہ ایک مشکل مرحلہ ہے جس میں دشمن کا کردار بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی کرنسی کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ فطری نہیں بلکہ اس کے پیچھے دشمن کے عناصر کارفرما ہیں اور اس صورتحال کو ہر صورت روکنا چاہیے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے احتجاج سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج ایک جائز حق ہے لیکن احتجاج اور شرپسندی میں واضح فرق ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین سے بات چیت کی جا رہی ہے اور حکام کو بھی مظاہرین سے بات کرنی چاہیے، تاہم شرپسند عناصر سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور انہیں سختی سے روکنا ضروری ہے۔


