امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کی سیاست ایک نئے اور غیر متوقع مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو سے رابطہ نہ کرنے کا اعلان خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا پر کارروائی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی ڈیلٹا فورس نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو صدارتی محل سے حراست میں لے کر امریکا منتقل کیا۔
اس حوالے سے تفصیلی پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ہدایت پر وینزویلا میں ایک غیر معمولی فوجی آپریشن کیا گیا جس میں متعدد جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا، آپریشن کی خفیہ منصوبہ بندی دسمبر کے اوائل میں مکمل کی گئی تھی اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائی کے لیے بھی امریکا تیار ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈ روم سے گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔
امریکی صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کا انتظام امریکا سنبھالے گا اور امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں کام کریں گی۔
ٹرمپ کی نیوز کانفرنس میں سب سے حیران کن پہلو یہ سامنے آیا کہ انہوں نے اپوزیشن لیڈر اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کا ذکر صرف ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ماچاڈو کے لیے وینزویلا کی قیادت سنبھالنا مشکل ہوگا کیونکہ ان کے پاس ملک کے اندر وہ عوامی حمایت اور احترام موجود نہیں جو قیادت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ماچاڈو کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چند گھنٹے قبل ہی انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک خط جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ آزادی کا وقت آ چکا ہے۔
ماچاڈو نے اپوزیشن رہنما ایڈمنڈو گونزالیز کی حمایت کرتے ہوئے انہیں ملک کا نیا لیڈر قرار دیا اور کہا کہ اب وینزویلا میں امن قائم ہوگا اور سیاسی قیدیوں کو رہائی ملے گی، جبکہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 2024 کے انتخابات میں حقیقی کامیابی ایڈمنڈو گونزالیز نے حاصل کی تھی اور انہیں فوری طور پر اپنی آئینی ذمہ داریاں سنبھالنی چاہییں۔


