پاکستان اور روس کے درمیان توانائی، زرعی، صنعتی اور دواسازی کے شعبوں میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
روسی پاکستانی بین الحکومتی کمیشن کے شریک سربراہ سرگئی تسیولیف نے کہا ہے کہ روس کی بڑی تیل و گیس کمپنیاں پاکستان میں کاروبار کے فروغ میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں، جبکہ دونوں ممالک ہائیڈروکاربن کی تلاش، پیداوار، ایل این جی سپلائی اور آئل ریفائنری کی جدید کاری جیسے شعبوں میں عملی تعاون بڑھا رہے ہیں۔
سرگئی تسیولیف کے مطابق روس اور پاکستان مشترکہ منصوبوں کے جائزے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ ممکنہ روسی ایل این جی سپلائی کے حوالے سے تجارتی مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان معاہدے کے بعد سپلائی کی مقدار اور شرائط طے کی جائیں گی۔
ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پر بھی پیشرفت
پاکستان میں آئل ریفائنریوں کی جامع جدید کاری میں بھی روسی کمپنیوں کی شمولیت پر غور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ریفائننگ کی استعداد بڑھانا، توانائی کی کھپت کم کرنا اور ماحولیاتی اثرات میں کمی لانا ہے۔
سی پیک میں روس کا ابھرتا کردار
رپورٹ کے مطابق روس، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو خصوصاً سی پیک کا ’’جونیئر پارٹنر‘‘ بنتے ہوئے پاکستان کی صنعتی ترقی میں معاون کردار ادا کر رہا ہے۔ چین پہلے ہی پاکستان میں 90 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرچکا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو جنوبی ایشیا کا صنعتی مرکز بنانا اور اندرونی بدامنی میں کمی لانا ہے۔
پاکستان کی 241.5 ملین آبادی کو مناسب ماحول اور سرمایہ کاری کے ذریعے بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس میں روس توانائی اور صنعتی شراکت داری کے ذریعے شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
علاقائی روابط: ایران، افغانستان اور ٹرانزٹ کوریڈورز
پاکستان کی مغربی سرحد ایران کے ساتھ ملتی ہے جو روس اور چین دونوں کے لیے توانائی اور ٹرانسپورٹ کا اہم شراکت دار ہے۔ ایران بین الاقوامی شمالی-جنوبی ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کا کلیدی حصہ ہے، جس کے ذریعے روس کو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا، پاکستان اور بھارت تک رسائی ملتی ہے۔
اسی طرح افغانستان کی نازک صورتحال دونوں ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ روس اور چین نے افغانستان میں استحکام کے لیے سرمایہ کاری کی ہے کیونکہ اس کی سلامتی، پاکستان کی داخلی صورتحال اور پورے خطے کی راہداریوں کے لیے اہم ہے۔
زرعی اور صنعتی تجارت میں اضافہ
تسیولیف نے بتایا کہ پاکستان کو ہونے والی روسی برآمدات میں زرعی مصنوعات کا حصہ 65 فیصد تک ہے۔ حالیہ مہینوں میں روس سے پاکستان کو فیرس دھاتوں اور دواسازی کی مصنوعات کی سپلائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب پاکستان سے روس کو ہونے والی برآمدات میں ٹیکسٹائل 60 فیصد تک شامل ہیں جبکہ چمڑے کی مصنوعات اور خوراک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
دواسازی میں اہم پیشرفت—پاکستان میں روسی انسولین کی تیاری
رپورٹ کے مطابق روس اور پاکستان دواسازی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھا رہے ہیں۔ روسی انسولین کی پاکستان میں مقامی پیداوار کا منصوبہ زیر غور ہے، جس کی بنیادی شرط دوا کی مناسب قیمت پر اتفاق ہے۔ سرگئی تسیولیف نے کہا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ روسی انسولین کی قیمت پر باہمی طور پر قابل قبول حل دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔‘‘
انہوں نے فارماسیوٹیکلز خصوصاً ریڈیو فارماسیوٹیکل کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی سازگار حالات پر زور دیا۔
پاکستان کے وسائل—بڑی صلاحیت، کم سرمایہ کاری
ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس معدنیات، کوئلہ، تیل، گیس، پن بجلی اور قابلِ کاشت زمین کی بڑی مقدار موجود ہے، جبکہ حالیہ دریافتوں میں اسٹریٹجک معدنیات جیسے لیتھیم، نکل، کوبالٹ اور دیگر نایاب عناصر کے بڑے ذخائر بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم کئی دہائیوں کی ناکافی سرمایہ کاری کے باعث ملک اپنی اصل معاشی صلاحیت سے بہت پیچھے ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ضروری ہے کہ وہ خطے میں تصادم کے بجائے تعاون پر مبنی یوریشین ماڈل اپنائے تاکہ روس، چین اور ایران کے ساتھ اقتصادی روابط مضبوط ہوں اور ملک اپنے انسانی سرمائے اور صنعتی بنیاد کو مضبوط بنا سکے۔
توانائی، زراعت، صنعت اور دواسازی کے شعبوں میں روس–پاکستان شراکت داری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو مستقبل میں پاکستان کی معاشی بہتری، صنعتی ترقی اور علاقائی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔


