تہران میں 22 بہمن کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے ایران کی استقامت، شہداء کی قربانیوں اور قومی اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔
ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، صدر پزشکیان نے بیرونی دباؤ اور سازشوں کے خلاف قوم کی مضبوطی کو اجاگر کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے 1979 کے اسلامی انقلاب سے اب تک ایران کے سفر کا جائزہ لیا اور ابتدائی چیلنجز جیسے نسلی کشیدگیاں، رژیم چینج کی کوششیں اور بیرونی مداخلت کو یاد کیا۔
صدر نے کہا کہ یورپی ممالک اور امریکہ نے انقلاب کو روکنے کی کوشش کی اور ایران پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کی گئی۔
صدر نے دفاع مقدس کے شہداء اور نامور کمانڈروں جیسے قاسم سلیمانی، محمد باقری اور حسین سلامی کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی قربانیوں کو ملک کی ترقی اور استقامت کی بنیاد قرار دیا۔
پزشکیان نے داخلی چیلنجز سے نمٹنے، خارجی سازشوں کا مقابلہ کرنے اور منصفانہ ترقی کے لیے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کا انحصار داخلی ہم آہنگی پر ہے اور دھمکیوں، سازشوں اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں کا واحد حل اتحاد ہے۔
صدر نے حکومت کی عوامی مسائل کے حل اور خدمت کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ اسلامی انقلاب کا مقصد عدل و انصاف قائم کرنا اور تفریق و امتیاز کو ختم کرنا ہے۔
پزشکیان نے علاقائی اور اسلامی ممالک کے تعمیری کردار کو بھی سراہا، جن میں ترکی، قطر، متحدہ عرب امارات، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور دیگر ممالک شامل ہیں، جنہوں نے پرامن سفارتی حل کی حمایت کی اور اسرائیل و امریکہ کے نقصان دہ منصوبوں کو ناکام بنایا۔


