امریکہ میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی ناکام سازش میں بھارتی سرکاری اہلکار کے ملوث ہونے کا صدمے خیز انکشاف ہوا ہے۔
امریکی عدالتی دستاویزات اور نیویارک ٹائمز کے مطابق، بھارتی نژاد ملزم نکھل گپتا نے عدالت میں اعتراف کیا کہ وہ بھارتی حکومت سے منسلک اہلکار کی ہدایات پر کام کر رہا تھا۔
ملزم نے کہا کہ بھارتی سرکاری اہلکار نے ہدف کی نشاندہی کرتے ہوئے سکھ رہنما کا مکمل پتہ اور شناخت فراہم کی تھی۔
مزید برآں، 18 جون 2023 کو بھارتی اہلکار نے گپتا کو ایک ویڈیو بھیجی جس میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو مردہ حالت میں دکھایا گیا۔
امریکی تفتیش کاروں کے مطابق اس کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ سکھ رہنماؤں کو بیرونِ ملک بھی کامیابی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی اٹارنی جے کلیٹن نے کہا:نکھل گپتا کا گمان تھا کہ وہ صرف آزادیٔ اظہار کے حق کے استعمال پر امریکہ میں کسی کو قتل کر سکتا ہے۔ تاہم، امریکہ میں سکھ رہنما کے قتل کی ناکام سازش کے باوجود نکھل گپتا کو انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بھارت کے عالمی سطح پر ریاستی دہشتگردی کے الزامات کی تصدیق کرتا ہے۔
پاکستان سمیت دیگر ممالک نے پہلے ہی بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے شواہد پیش کیے ہیں، اور پہلی مرتبہ امریکی عدالت میں براہِ راست سیاسی قتل کی سازش کا الزام قانونی طور پر ثابت ہونا بھارت کے لیے رسوائی کا سبب ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارتی سرکاری اہلکار کے امریکی سرزمین پر قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے باعث بھارت کو عالمی سطح پر ریاستی دہشتگردی کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کے مؤقف کی بھی تائید ہوتی ہے کہ بھارت دنیا بھر میں ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے۔


