صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ پیدائش کے وقت اذان کے فوراً بعد گولیوں کی آواز سن چکے ہیں، اس لیے انہیں دھمکیوں سے نہ ڈرایا جائے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کو کسی صورت ٹوٹنے نہیں دیا جائے گا۔رحیم یار خان میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے یوسف رضا گیلانی کو وزیرِاعظم بنایا اور سرائیکی وسیب کے عوام کی عزت ہمیشہ مقدم رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرائیکی ان کی مادری زبان ہے اور وہ اس خطے کے لوگوں سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔
صدر زرداری نے کہا کہ بینظیر بھٹو جیسی دور اندیش قیادت آج دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سیاست شہید محترمہ سے سیکھی جبکہ بی بی نے شہید ذولفقار علی بھٹو سے رہنمائی حاصل کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو دوست ممالک نے وطن واپسی سے منع کیا تھا، مگر انہوں نے عوام سے کیا گیا وعدہ نبھانے کا فیصلہ کیا۔
صدر مملکت کے مطابق انہیں گمان بھی نہیں تھا کہ ان کے نصیب میں شہادت لکھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روانگی سے قبل انہوں نے بے نظیر بھٹو کو جانے سے روکنے کی کوشش کی، تاہم وہ بھٹو کی نڈر بیٹی تھیں اور اپنے مؤقف پر قائم رہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کارکنوں کو تلقین کی کہ مشکلات اور قید و بند سے گھبرانے کے بجائے ثابت قدمی اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنا انسان جھکے گا، اتنی ہی عزت پائے گا، اس لیے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔


