ایران اور امریکا۔اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران فضائی برتری کے دعووں پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ حالیہ رپورٹس میں ایک امریکی ایف-15 جنگی طیارے کے گرائے جانے کے دعوے کے بعد خطے کی فضائی صورتحال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز امریکا کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے تہران کی فضاؤں پر مکمل امریکی کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے مغربی ایران میں ایک امریکی طیارے کے گرنے کی خبر سامنے آنے کے بعد اس دعوے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ ایران نے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری حاصل کر لی ہے اور وہ جدید جنگی طیاروں کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گرائے گئے ایف-15 طیارے کے عملے کو بچانے کے لیے امریکی اور اسرائیلی افواج کو مشترکہ طور پر ریسکیو کارروائی کرنا پڑی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام اب اس حد تک مؤثر ہو چکے ہیں کہ وہ ایسے طیاروں اور ڈرونز کو بھی ٹریک اور نشانہ بنا سکتے ہیں جنہیں ماضی میں مشکل سے پکڑا جاتا تھا۔ اس سے قبل جدید امریکی MQ-9 ڈرون کو مار گرائے جانے کے دعوے بھی سامنے آ چکے ہیں۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں مزید فضائی جھڑپیں، طیاروں کی تباہی اور ممکنہ طور پر پائلٹس کی گرفتاری جیسے واقعات بھی سامنے آ سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔


