میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ امریکا کا کہنا ہے کہ نئے لائسنس کے تحت پہلے سے جہازوں پر لوڈ تیل کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ خصوصی لائسنس 19 اپریل تک مؤثر رہے گا۔
دوسری جانب ایران نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں ختم کرنے کی بات محض خریداروں کو امید دلانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق عالمی منڈی میں فروخت کے لیے اضافی تیل موجود نہیں اور امریکی فیصلہ دراصل خام تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ایک نفسیاتی حربہ ہے۔


