ایران کی طاقتور سپاہ پاسداران انقلاب نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کو کامیابی کے ساتھ ہدف بنا کر غیر فعال کر دیا ہے اور اسے سروس سے باہر کر دیا گیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔
ایرانی گارڈز کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی جدید دفاعی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا نتیجہ ہے، تاہم اس دعوے کی تفصیلات، جیسے حملے کی نوعیت، مقام اور وقت کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دشمن کی ممکنہ جارحیت کو روکنے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

دوسری جانب امریکی حکام کی طرف سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ ماضی میں بھی ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب آئی آر جی سی کی جانب سے بڑے عسکری دعوے کیے گئے لیکن بعد میں ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یو ایس ایس ابراہام لنکن جیسے جدید طیارہ بردار جہاز کو مکمل طور پر “غیر فعال” کرنا ایک نہایت پیچیدہ اور بڑا عسکری واقعہ ہوگا، جس کے اثرات عالمی سطح پر فوری طور پر نظر آتے۔ اس لیے کسی بھی دعوے کو مستند ذرائع سے تصدیق کے بغیر حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
علاقائی صورتحال کے تناظر میں اس بیان نے خلیج میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایسے بیانات دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں، جو کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔


