سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ روسی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ Donald Trump کے دور میں یہ واضح ہو گیا کہ امریکہ اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا ہے، اور اگر وہ ایران جیسے ملک کا سامنا نہیں کر پایا تو چین جیسی بڑی طاقت کے سامنے بھی ٹھہر نہیں سکے گا۔
بیلاروسی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے اصل مفادات دنیا بھر میں تیل اور گیس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہیں، اور اس مقصد کے لیے وہ ہر ممکن راستہ اختیار کرتا ہے۔
انہوں نے اپنے اوپر لگنے والے آمریت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اصل آمریت تو Venezuela، Cuba اور Middle East میں امریکی پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔
ان کے مطابق امریکہ خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے، مگر وہاں نہ حقیقی جمہوریت ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مغرب کے نام نہاد انسانی حقوق کے دعوؤں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ Israel کے کہنے پر امریکہ نے ہزاروں کلومیٹر دور ایک خودمختار ملک میں ایک اسکول پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔


