Donald Trump نے کہا ہے کہ Iran آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم وہ United States کو بلیک میل نہیں کر سکتا۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں جاری ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ تہران اس اہم سمندری گزرگاہ کے ذریعے امریکہ پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران میں Qasem Soleimani کو نشانہ بنایا گیا اور وہ متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور معذوری کا ذمہ دار تھا، اس لیے اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے حوالے سے دن کے اختتام تک اہم معلومات کا اعلان کیا جائے گا، جس سے صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
انہوں نے Spain کی معیشت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپین نیٹو میں اپنا مکمل کردار ادا نہیں کر رہا اور دفاعی اخراجات میں مطلوبہ اضافہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اپنی کارروائیوں کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں، اور ضرورت پڑنے پر وہ خود فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے داخلی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ طبی شعبے میں اصلاحات کی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں ادویات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔


