امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات آج پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہونے کی توقع ہے، جس کے پیش نظر شہر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سرینہ ہوٹل اسلام آباد، جہاں 11 اپریل کو بھی مذاکرات کا ایک دور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا تھا، کو آج کے اجلاس کی تیاری کے لیے خالی کروایا جا رہا ہے۔ ہوٹل میں مقیم مہمانوں کو عارضی طور پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ پولیس نے غیر ملکی وفود کی آمد کے باعث شہر کی اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ان کے نمائندے پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ دیگر اہم شخصیات میں سٹیو وٹکوف اور جیراڈ کشنر شامل ہوں گے۔

تاہم ایران کی جانب سے تاحال ان مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جب تک ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، ایرانی حکام مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔
ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہونے جا رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچا گیا تو ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی خطے کی سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اس اہم پیش رفت پر مرکوز ہیں۔


