متحدہ عرب امارات نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں ڈالر کی دستیابی میں کمی واقع ہوئی تو وہ تیل کی فروخت اور بین الاقوامی لین دین کے لیے متبادل کرنسیوں، خصوصاً چینی یوآن، کے استعمال پر غور کرے گا۔ اس بیان کو عالمی مالیاتی نظام میں ممکنہ بڑی تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت میں ڈالر پر حد سے زیادہ انحصار کئی ممالک کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب جغرافیائی کشیدگیاں اور پابندیاں مالیاتی بہاؤ کو متاثر کر رہی ہوں۔ حکام نے واضح کیا کہ اگر ڈالر کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو توانائی کی برآمدات کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر متحدہ عرب امارات واقعی یوآن یا دیگر کرنسیوں میں تیل کی فروخت شروع کرتا ہے تو یہ عالمی تیل مارکیٹ اور مالیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جہاں طویل عرصے سے امریکی ڈالر کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔
اس پیش رفت کو چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اثر و رسوخ سے بھی جوڑا جا رہا ہے، کیونکہ یوآن کو عالمی تجارت میں متبادل کرنسی کے طور پر فروغ دینے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک اس سمت میں پیش رفت کرتے ہیں تو یہ "پیٹرو ڈالر” نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اقتصادی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات واشنگٹن کے لیے سفارتی اور مالیاتی سطح پر اہم پیغام رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت، عالمی مالیاتی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف توانائی کی منڈی بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔


