بچوں کا تحفظ کون کرے گا؟ پاکستان کے شیلٹر ہومز کے اندرونی حالات اور احتساب کا خلا

Date:

تحریر: ماہا شفقت خان
پاکستان بھر میں ہزاروں بچے شیلٹر ہومز میں رہتے ہیں ایسے مقامات جو قانونی طور پر تحفظ، نگہداشت اور وقار فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ لیکن بڑھتی ہوئی عوامی تشویش ایک اہم سوال اٹھا رہی ہے,کیا یہ ادارے بچوں کے حوالے سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟

شیلٹر ہومز، چاہے وہ سرکاری ہوں یا فلاحی اداروں کے زیرِ انتظام، قومی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت کام کرتے ہیں۔ پاکستان کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ (CRC) کا دستخط کنندہ ہے، جو ہر بچے کے تحفظ، نشوونما، رازداری اور شرکت کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

ملکی سطح پر جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ (2018) اور دیگر چائلڈ پروٹیکشن فریم ورکس ان ذمہ داریوں کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

یہ قوانین واضح ہیں ہر ایسے فیصلے میں جو بچے کو متاثر کرے، اس کے بہترین مفاد کو اولین حیثیت دی جانی چاہیے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شیلٹر ہومز محض خدمات فراہم کرنے والے ادارے نہیں بلکہ قانونی ذمہ دار (ڈیوٹی بیئررز) ہیں، جن پر لازم ہے کہ وہ یقینی بنائیں:
• محفوظ رہائشی ماحول
• بدسلوکی اور غفلت سے تحفظ
• تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی
• وقار اور رازداری کا احترام

تاہم، حالیہ عوامی بحث اور میڈیا و سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات نے ان اداروں پر نئی نظرِ ثانی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

اگرچہ ایسے دعووں کی باقاعدہ تحقیقات ضروری ہیں اور انہیں ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جانا چاہیے، مگر یہ ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں,کیا نگرانی کا نظام موجود قوانین پر مؤثر اور مستقل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کافی مضبوط ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق مسئلہ اکثر قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کی کمزوری ہوتا ہے۔ایک قانونی تجزیہ کار کے مطابق پاکستان کے پاس کاغذ پر مضبوط وعدے موجود ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا نگرانی کے نظام آزاد، باقاعدہ اور شفاف ہیں یا نہیں۔

اس تناظر میں چند اہم قانونی سوالات سامنے آتے ہیں:
• کیا شیلٹر ہومز کی باقاعدہ اور لازمی انسپیکشن ہوتی ہے؟
• کیا ریگولیٹری اداروں کے پاس عملدرآمد کروانے کے لیے اختیارات اور وسائل موجود ہیں؟
• کیا بچوں کے لیے شکایات درج کروانے کے محفوظ اور قابلِ رسائی طریقے موجود ہیں؟
• خلاف ورزی کی صورت میں کیا قانونی کارروائی کی جاتی ہے؟

بچوں کے حقوق کے اصولوں کے تحت، ادارہ جاتی نگہداشت میں رہنے والے بچوں کو رازداری اور ہر قسم کے نقصان سے تحفظ کا حق حاصل ہے، جس میں میڈیا سے غیر ضروری نمائش سے بچاؤ بھی شامل ہے۔

اسی لیے اخلاقی صحافت اس بات سے گریز کرتی ہے کہ ایسے اداروں کا نام اس انداز میں لیا جائے جس سے بچوں کی شناخت ظاہر ہو یا بغیر تصدیق کے خوف و ہراس پھیلے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ احتساب کا مرکز نظام ہونا چاہیے، نہ کہ انفرادی کہانیاں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بچوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ڈھانچے مؤثر طریقے سے کام کر رہے ہیں یا نہیں۔

نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری اقدامات میں شامل ہیں:
• آزاد ریگولیٹری نگرانی کے ادارے
• تمام شیلٹر ہومز میں یکساں چائلڈ پروٹیکشن پالیسیاں
• عملے کی لازمی تربیت (چائلڈ رائٹس اور ٹراما سے آگاہ نگہداشت)
• خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ اور ازالے کے واضح قانونی طریقہ کار

ان اداروں میں رہنے والے بچوں کے لیے قانون ان کا سب سے مضبوط تحفظ ہونا چاہیے۔ جب اس پر عملدرآمد کمزور پڑتا ہے تو یہ تحفظ بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

اب سوال یہ نہیں رہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ان قوانین پر وہاں مکمل عمل ہو رہا ہے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
(ادارے کا مضمون نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related