ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران اماراتی نمائندے کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں اتحاد و یکجہتی کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ امارات ایران کے خلاف جارحیت میں براہ راست شریک تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب ایران کے خلاف حملہ شروع ہوا تو امارات نے اس کی مذمت تک نہیں کی۔ یہاں تک کہ جنگ کے پہلے روز ایک اسکول پر ہونے والے وحشیانہ حملے کی بھی مذمت نہیں کی گئی، جس میں 170 سے زائد معصوم طلبہ جاں بحق ہوئے تھے۔
عراقچی نے کہا کہ امارات نے نہ صرف اس جارحیت کی مخالفت نہیں کی بلکہ بعد میں امریکا اور اسرائیل کو فوجی اڈے، فضائی حدود، سرزمین اور دیگر سہولتیں فراہم کر کے عملی طور پر اس کارروائی میں شامل ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ امارات نے اسرائیلی اور امریکی افواج کو انٹیلی جنس سمیت ہر قسم کی سہولت فراہم کی تاکہ ایرانی عوام کو نشانہ بنایا جا سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران امارات کو ہمسایہ اور برادر ملک سمجھتا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امارات نے اسرائیل اور امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اماراتی نمائندہ بین الاقوامی قانون کی بات کرتا ہے، لیکن یہ بتایا جائے کہ کون سا بین الاقوامی قانون بلا اشتعال جارحیت کی حمایت کی اجازت دیتا ہے۔
وزیر خارجہ ایران عباس عراقچی کے مطابق ایران اس وقت مذاکرات کے عمل میں تھا جب امریکا اور اسرائیل نے حملہ کیا، جبکہ امارات نے بھی حملہ آوروں کا ساتھ دیا۔
عراقچی نے واضح کیا کہ ایران نے امارات پر حملہ نہیں کیا بلکہ صرف ان امریکی فوجی اڈوں اور دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا جو اماراتی سرزمین پر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا جتنا زیادہ حملہ کرتا گیا، ایران نے اتنا ہی زیادہ اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امارات کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے تھی کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور اماراتی حمایت کے باوجود ایران خاموش رہے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امارات کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کے ساتھ اتحاد نے امارات کو تحفظ فراہم نہیں کیا، اس لیے ابوظبی کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
عراقچی نے کہا کہ ایران اور امارات صدیوں سے ہمسایہ ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، اس لیے دونوں ممالک کو پرامن تعلقات اور باہمی مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر امارات اپنی سلامتی اسرائیل اور امریکا کے حوالے کرے گا تو نتیجہ یہی ہوگا جس کی آج شکایت کی جا رہی ہے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ امارات نے اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف توپ خانے اور فوجی سازوسامان کے استعمال کے لیے کھول دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ انکشافات سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جنگ کے دوران ابوظبی گئے تھے اور امارات اس کارروائی میں فعال شریک تھا۔
عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران نے امریکی فوجی اڈوں کو حملے کے دو گھنٹے بعد نہیں بلکہ اگلے روز نشانہ بنایا تھا، کیونکہ اس وقت تک ایران کے پاس ایسے شواہد موجود تھے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ امریکی افواج اماراتی اڈوں سے ایران پر حملے کر رہی تھیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اماراتی جنگی طیارے بھی ایران کے خلاف کارروائیوں میں شریک رہے اور بعض حملوں میں براہ راست حصہ لیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر عراقچی نے برکس رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ منصفانہ مؤقف اختیار کرنا چاہتے ہیں تو انہیں امریکا، اسرائیل اور امارات کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی جارحیت کی مذمت کرنی چاہیے۔


