اسرائیل کی اہم دفاعی کمپنی ٹومر کی میزائل انجن فیکٹری میں ہونے والے زوردار دھماکے نے خطے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسرائیلی حکام نے واقعے کو پہلے سے طے شدہ “کنٹرولڈ ٹیسٹ” قرار دیا ہے، تاہم دھماکے کے فوراً بعد ایمرجنسی سروسز کی دوڑ دھوپ اور عوام کو پیشگی اطلاع نہ دیے جانے کے باعث سرکاری مؤقف پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے کی شدت ایسی تھی جیسے ٹھوس راکٹ ایندھن اچانک بھڑک اٹھا ہو۔
یہ فیکٹری اسرائیل کے ایرو 2 اور ایرو 3 میزائل دفاعی نظام کے انجن تیار کرتی ہے، جو ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے خلاف اسرائیل کی اہم دفاعی ڈھال سمجھے جاتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس دھماکے سے پیداوار متاثر ہوئی تو اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کچھ مبصرین اسے صنعتی حادثہ قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض حلقے تخریب کاری کے امکان کو بھی رد نہیں کر رہے۔
یاد رہے کہ اسی مقام پر 2021 میں بھی ایک بڑا دھماکہ پیش آیا تھا جسے بعد میں کنٹرولڈ ٹیسٹ قرار دیا گیا تھا۔ موجودہ واقعے کے بعد اسرائیل کی دفاعی صلاحیت اور حساس تنصیبات کی سیکیورٹی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔


