امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں اور ناکہ بندی کو محدود کرنے کے لیے ایک اہم قرارداد منظور کرلی ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کے خلاف بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
سینیٹ میں ووٹنگ کے دوران 47کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دی گئی، جبکہ چار ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔
یہ قرارداد “وار پاورز ریزولوشن” کے تحت پیش کی گئی، جس کا مقصد امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے سے روکنا ہے۔
قرارداد کے مطابق اگر وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف جنگی یا ناکہ بندی کی پالیسی جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے کانگریس سے باضابطہ اجازت لینا ہوگی، بصورت دیگر امریکی افواج اور بحری کارروائیوں کو ختم کرنا پڑے گا۔
ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد کو ایسے وقت میں کامیابی ملی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کئی ماہ سے جاری ہے۔
امریکی اور اسرائیلی افواج کی ایران کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے بعد عالمی سطح پر شدید تنقید سامنے آئی تھی، جبکہ امریکی عوام اور کانگریس کے اندر بھی اس جنگ کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ریپبلکن سینیٹر بل کیسیڈی نے پہلی مرتبہ اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد قرارداد کو مطلوبہ حمایت حاصل ہوئی۔
ان کے علاوہ رینڈ پال، سوسن کولنز اور لیزا مرکاوسکی نے بھی حکومت کے خلاف ووٹ دیا۔ سینیٹر بل کیسیڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے کانگریس کو ایران آپریشن سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔
ادھر صدر ٹرمپ کے حامی حلقوں نے اس اقدام کو امریکی قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ریپبلکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف دباؤ کم کرنا مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ آئین کے مطابق جنگ شروع کرنے یا جاری رکھنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ قرارداد ابھی حتمی قانون نہیں بنی، تاہم امریکی سینیٹ میں اس کی منظوری صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کا واضح اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ قرارداد مکمل طور پر منظور ہو جاتی ہے تو ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی اور فوجی دباؤ میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔


