ایران-امریکا معاہدے کی راہ میں چار بڑے چیلنجزز کون کون سے ہیں؟

Date:

العربیہ اردو کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ ایران کے ساتھ 60 روزہ مذاکرات کے ذریعے تمام متنازع معاملات کے حل کے حوالے سے پُرامید ہیں، تاہم سیاسی اور سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ کئی پیچیدہ مسائل اب بھی حتمی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

لبنان کا محاذ سب سے حساس مسئلہ

تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان کی صورتحال مذاکرات کے لیے سب سے بڑا سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل معاہدے کا انحصار جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء پر ہوگا، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے علاقے میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے اشارے دے چکے ہیں۔

جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔

جوہری پروگرام اور پابندیوں کا پیچیدہ معاملہ

ماہرین کے مطابق جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات مذاکرات کا سب سے پیچیدہ اور حساس پہلو ہیں۔ مفاہمتی یادداشت میں یورینیم کی افزودگی، ذخائر کے مستقبل اور جوہری تنصیبات کی نگرانی جیسے معاملات کو تکنیکی مذاکرات کے سپرد کیا گیا ہے۔

خصوصاً تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کے ذخائر، ان کی منتقلی یا افزودگی کی سطح میں کمی کے طریقہ کار پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کسی بھی حتمی معاہدے کو کانگریس میں منظوری کے لیے پیش کرنے کا عندیہ بھی ایک نئی سیاسی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب سے متعلق قانونی پیچیدگیاں

امریکی محکمہ خزانہ کے سابق تفتیش کار جیریمی بانر کے مطابق ایرانی تیل کے شعبے میں پاسدارانِ انقلاب کا اثرورسوخ ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے بقول پابندیوں میں نرمی یا خاتمے کے فیصلے کے دوران اس حقیقت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عبوری معاہدے کے باوجود پاسدارانِ انقلاب سے متعلق امریکی قوانین اور پابندیاں امریکی اور مغربی کمپنیوں کے لیے قانونی اور مالی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔

آبنائے ہرمز پر اختیار کا تنازع

چوتھا اہم مسئلہ آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، جہاں ایران اپنے انتظامی اور سیکیورٹی کردار کو تسلیم کرانے کا خواہاں ہے۔ تہران کی جانب سے قائم کردہ "خلیج آبنائے اتھارٹی” کے قواعد کے تحت پیشگی اطلاع کے بغیر گزرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کا امکان بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس معاملے پر کسی بھی غلط فہمی یا کشیدگی سے عالمی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تکنیکی مذاکرات کی بحالی کی کوششیں

یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے تکنیکی مذاکرات اسرائیلی حملوں کے باعث ملتوی کر دیے گئے تھے، تاہم ثالثی کرنے والے ممالک اور سفارتی حلقے اب ان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرانے کے لیے سرگرم ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان، جوہری پروگرام، پاسدارانِ انقلاب اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات کے باعث آئندہ چند ہفتے نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ کسی بھی غیر متوقع پیش رفت کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود تقریباً 29 فیصد حصہ ٹیکسوں پر مشتمل

پیٹرول اور ڈیزل کی حالیہ قیمتوں میں نمایاں کمی...

اسلام آباد ڈکلریشن کے تحت امریکاایران تکنیکی مذاکرات کل سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا اور ایران...

طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگوں نے امریکہ کو کمزور کر دیا، وائٹ ہاؤس

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے...