چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، تاہم اپنے بنیادی قومی مفادات اور آبی حقوق کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پانی محض جغرافیائی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ خوراک، مستقبل اور انسانی بقا کا سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عالمی حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ اہم آبی گزرگاہوں میں رکاوٹ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے، جس کی مثال آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی زندگی، زراعت اور معیشت کی بنیاد ہے اور اس کے پانی پر ہر پاکستانی کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو سیاسی یا عسکری دباؤ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن و سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہے، جبکہ دنیا اب اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ پانی کے وسائل مستقبل کی عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا رجحان نہ روکا گیا تو اکیسویں صدی آبی تنازعات اور پانی کی بندش کے خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مشترکہ دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کو سیاسی یا عسکری ہتھیار بننے سے روکنے کے لیے نئے بین الاقوامی قوانین وضع کیے جائیں، تاکہ مستقبل میں کوئی بالادست ریاست زیریں بہاؤ والے ممالک پر دباؤ نہ ڈال سکے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے بھارت کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک کی پانی کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکا جائے تو یہ اس ملک کے وجود پر حملے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق اور دریائے سندھ کے پانی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ بھارت کا رویہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش جنگ کے مترادف ہے تو اس سمت اٹھایا جانے والا ہر قدم بھی معمول کا معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے بقول پاکستان ایسے اقدامات کا جواب سیاسی، سفارتی، قانونی اور بین الاقوامی فورمز سمیت ہر ممکن سطح پر دے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا بنیادی مقصد ہی ایسے وجودی خطرات کا سدباب کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ وہ مسلسل دباؤ بڑھاتا رہے اور پاکستان صرف احتجاج تک محدود رہے گا۔ مؤثر دفاع اسی وقت ممکن ہے جب مخالف فریق کو معلوم ہو کہ سرخ لکیر عبور کرنے کی اسے کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی مہم جوئی یا کشیدگی بڑھانے کی دعوت نہیں بلکہ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان سنجیدگی، واضح حکمت عملی اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے قومی مفادات اور آبی حقوق کا بھرپور دفاع کرے۔


