ایران کے شہید رہبر، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تاریخی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان کی سیاسی، پارلیمانی اور مذہبی قیادت کی تہران روانگی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ مختلف ممالک سے سربراہانِ مملکت، وزرائے خارجہ، پارلیمانی وفود اور مذہبی رہنما بھی ایران پہنچ رہے ہیں، جہاں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی متعدد اہم سیاسی شخصیات آج تہران روانہ ہوں گی، جبکہ وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف 3 جولائی کو ایک اعلیٰ سطحی سرکاری وفد کے ہمراہ ایران کا دورہ کریں گے۔ وفد میں وفاقی حکومت کے اہم وزراء اور اعلیٰ حکام بھی شامل ہوں گے، جو شہید رہبر کی نمازِ جنازہ، تدفین اور تعزیتی تقریبات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی تہران جائیں گے، جہاں وہ ایرانی قیادت سے اظہارِ تعزیت کریں گے اور نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی پاکستانی پارلیمان کی نمائندگی کرتے ہوئے ان تقریبات میں شریک ہوں گے۔
دوسری جانب قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی ممتاز علمائے کرام اور مذہبی شخصیات کے وفد کے ہمراہ تہران روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کا وفد تہران، قم اور مشہد مقدس میں منعقد ہونے والی نمازِ جنازہ، تدفین اور دیگر تعزیتی رسومات میں شرکت کرے گا، جبکہ مختلف اسلامی ممالک سے آئے ہوئے علماء اور اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور مذہبی قیادت کی اس سطح پر شرکت کو دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان گہرے، تاریخی اور دوستانہ تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ دورہ نہ صرف شہید رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع ہوگا بلکہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی اہم سفارتی رابطوں کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں دنیا بھر سے سرکاری وفود، مذہبی رہنما، دانشور اور لاکھوں سوگوار شریک ہوں گے، جس کے لیے غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔


