گلگت بلتستان اس وقت متعدد انتظامی، معاشی اور بنیادی سہولیات سے متعلق چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ شدید گرمی، بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت، سڑکوں کی خستہ حالی، سیاحتی دباؤ اور سرکاری اداروں کی محدود استعداد نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے میں حکومت سازی میں تاخیر عوامی مسائل کے حل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
نئی حکومت کے قیام کے بعد محض سیاسی معاملات پر توجہ دینے کے بجائے عوامی فلاح کو اولین ترجیح بنانا ناگزیر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق حکومت کو درج ذیل شعبوں پر فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔
1۔ توانائی کا بحران اولین ترجیح
گلگت بلتستان میں اس وقت کئی کئی گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے، جبکہ گرمی کے باعث بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ:
زیر تعمیر پن بجلی منصوبے جلد مکمل کرے۔
خراب ٹرانسمیشن لائنوں کی اپ گریڈیشن کرے۔
شمسی توانائی (سولر) اور مائیکرو ہائیڈل منصوبوں کو فروغ دے۔
سیاحتی سیزن کے دوران بجلی کی فراہمی کے لیے خصوصی پلان ترتیب دے۔
2۔ پانی کی فراہمی اور شہری سہولیات
گرمی کی شدت کے ساتھ کئی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی قلت بھی بڑھ جاتی ہے۔
اس حوالے سے ضروری اقدامات:
نئی واٹر سپلائی اسکیموں کا آغاز۔
پرانی پائپ لائنوں کی مرمت۔
واٹر اسٹوریج اور فلٹریشن پلانٹس کا قیام۔
شہری علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کی بہتری۔
3۔ صحت کا شعبہ
دور دراز علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات آج بھی ناکافی ہیں۔
ضروری اقدامات:
ضلعی اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور ادویات کی دستیابی۔
جدید طبی آلات کی فراہمی۔
ٹیلی میڈیسن سروسز کا آغاز۔
ایمرجنسی ایمبولینس نیٹ ورک کو مضبوط بنانا۔
4۔ تعلیم اور ڈیجیٹل سہولیات
معیاری تعلیم اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی نوجوانوں کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔
حکومت کو چاہیے:
اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کی خالی آسامیاں پُر کرے۔
دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی بہتر سہولت فراہم کرے۔
ڈیجیٹل کلاس رومز اور ٹیکنیکل تعلیم کو فروغ دے۔
نوجوانوں کے لیے آئی ٹی اور فری لانسنگ پروگرام شروع کرے۔
5۔ سیاحت کی بہتر منصوبہ بندی
گلگت بلتستان پاکستان کی سیاحت کا اہم مرکز ہے، لیکن بنیادی سہولیات کی کمی سیاحوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔
ضروری اقدامات:
سڑکوں اور پارکنگ کی بہتری۔
صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کا مؤثر نظام۔
ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کو جدید بنانا۔
مقامی آبادی کو سیاحت سے معاشی فوائد پہنچانے کے لیے خصوصی منصوبے۔
6۔ سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کا نظام
متعدد رابطہ سڑکیں خستہ حال ہیں جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث آمدورفت متاثر رہتی ہے۔
ترجیحات:
اندرونی شاہراہوں کی تعمیر و مرمت۔
لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں میں مستقل حفاظتی اقدامات۔
عوامی ٹرانسپورٹ میں بہتری۔
7۔ روزگار اور معیشت
بے روزگاری نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
حکومت کو چاہیے:
چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے آسان قرضے فراہم کرے۔
زرعی، معدنیات اور دستکاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائے۔
مقامی صنعتوں اور خواتین کے کاروباری منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرے۔
8۔ گڈ گورننس اور شفافیت
عوام کی بڑی شکایت ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور شفافیت کی کمی ہے۔
حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ:
ای گورننس کو فروغ دے۔
سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنائے۔
ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی عوامی نگرانی یقینی بنائے۔
میرٹ پر تقرریوں اور احتساب کے نظام کو مضبوط کرے۔
9۔ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات
گلگت بلتستان گلیشیئرز، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) جیسے خطرات سے متاثرہ خطہ ہے۔
اس شعبے میں:
ابتدائی وارننگ سسٹم کو مؤثر بنایا جائے۔
دریاؤں کے کناروں پر حفاظتی پشتے تعمیر کیے جائیں۔
جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری مہم کو وسعت دی جائے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو جدید وسائل فراہم کیے جائیں۔
گلگت بلتستان کی نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان سیاسی استحکام سے بڑھ کر عوامی مسائل کا فوری حل ہوگا۔ اگر حکومت اپنی ابتدائی ترجیحات میں توانائی، پانی، صحت، تعلیم، سیاحت، روزگار، انفراسٹرکچر اور شفاف طرزِ حکمرانی کو شامل کرتی ہے تو نہ صرف عوامی اعتماد بحال ہو سکتا ہے بلکہ خطے کی پائیدار ترقی کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ عوام کی توقع ہے کہ نئی قیادت وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے اور گلگت بلتستان کو درپیش بنیادی مسائل کے دیرپا حل کے لیے واضح روڈ میپ پیش کرے۔


