شہر قائد میں رواں سال مختلف علاقوں سے 13 خواتین سمیت مجموعی طور پر 200 افراد کی لاوارث لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن کی نہ تو شناخت ہو سکی ہے اور نہ ہی بیشتر کیسز میں وجۂ موت کا تعین کیا جا سکا ہے۔
Edhi Foundation کے مطابق یہ لاشیں شہر کے مختلف مقامات، جن میں سڑکیں، ندی نالوں کے کنارے، جھاڑیاں، خالی مکانات اور دیگر ویران علاقے شامل ہیں، سے برآمد کی گئیں۔ بیشتر لاشیں لاوارث حالت میں ملیں اور ان کی شناخت کے لیے تاحال کوششیں جاری ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ جولائی کے ابتدائی چار روز کے دوران بھی شہر کے مختلف علاقوں سے 3 مردوں کی لاشیں ملی ہیں، تاہم ان کی شناخت بھی تاحال نہیں ہو سکی۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری میں 31 مرد اور 2 خواتین، فروری میں 23 مرد اور ایک خاتون، مارچ میں 22 مرد اور 3 خواتین، اپریل میں 30 مرد، مئی میں 40 مرد جبکہ جون میں 41 مرد اور 7 خواتین کی لاشیں لاوارث حالت میں برآمد ہوئیں۔
ایدھی حکام کے مطابق برآمد ہونے والی متعدد لاشیں ایسے افراد کی ہیں جو بظاہر نشے کے عادی تھے، تاہم ہر کیس کی وجۂ موت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے حتمی رائے صرف پوسٹ مارٹم اور پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ لاوارث لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بے گھر افراد، منشیات کے استعمال، ذہنی صحت کے مسائل اور سماجی بے توجہی جیسے عوامل کی نشاندہی کرتی ہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ ادارے لاپتا افراد کی شناخت، فنگر پرنٹ اور ڈی این اے ریکارڈ کو مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ بے گھر اور نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے بھی جامع اقدامات کریں۔


