مصر کے صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر عبدالفتاح السیسی نے ملک کے نئے اسٹریٹجک کمانڈ ہیڈکوارٹر "آکٹاگون” (Octagon) کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے، جسے دنیا کے سب سے بڑے مکمل تعمیر شدہ فوجی اور قومی سلامتی کے ہیڈکوارٹرز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کو مصر کی دفاعی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل کے سکیورٹی تقاضوں اور جدید جنگی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے۔
یہ جدید دفاعی کمپلیکس مصر کے نئے انتظامی دارالحکومت نیو ایڈمنسٹریٹو کیپیٹل میں قائم کیا گیا ہے، جو قاہرہ سے تقریباً 45 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ یہ ہیڈکوارٹر آٹھ باہم منسلک عمارتوں پر مشتمل ہے، اسی منفرد ڈیزائن کی وجہ سے اسے "آکٹاگون” کا نام دیا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ یہ منصوبہ مصر کی دفاعی صلاحیت، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور فوجی آپریشنز کی نگرانی کے نظام میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ یہ مرکز نہ صرف مسلح افواج کے مختلف شعبوں کے درمیان فوری رابطہ اور مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنائے گا بلکہ قومی سلامتی کو درپیش بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔
حکام کے مطابق آکٹاگون کمپلیکس میں جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، آپریشن رومز، انٹیلی جنس اور مواصلاتی نظام، تربیتی سہولیات اور انتظامی دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔ یہ تمام شعبے ایک مربوط نیٹ ورک کے تحت کام کریں گے تاکہ ہنگامی حالات میں فوری فیصلے اور مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آکٹاگون کی تعمیر مصر کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ملک اپنی فوجی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے، دفاعی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور خطے میں اپنی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ مصر کے نئے انتظامی دارالحکومت کی ترقی اور وہاں اہم سرکاری و عسکری اداروں کی منتقلی کے بڑے منصوبے کا بھی حصہ ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی، محفوظ مواصلاتی نظام اور مربوط کمانڈ اسٹرکچر کی بدولت آکٹاگون مستقبل میں مصر کی فوجی منصوبہ بندی، مشترکہ آپریشنز اور قومی سلامتی کے انتظام میں مرکزی کردار ادا کرے گا، جبکہ اسے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے جدید ترین عسکری مراکز میں بھی شمار کیا جا رہا ہے۔


