ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ختم قرار دے دی،ایران سے مزید بات چیت نہیں کرنا چاہتا،ٹرمپ

Date:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے (ایم او یو) اور جنگ بندی کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایرانی قیادت کے ساتھ مزید کوئی معاہدہ یا مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، جبکہ ان کے سخت بیانات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ترکیے کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہ کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت (MOU) اب ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے اور موجودہ حالات میں ایرانی قیادت کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کے خواہاں نہیں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی عملاً ختم ہو چکی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرنے سے گریز نہ کرتا، اسی لیے امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے گزشتہ رات ایران کے خلاف سخت کارروائی کی اور تہران کو واضح پیغام دیا کہ اگر امریکی مفادات یا اتحادیوں پر حملہ کیا گیا تو واشنگٹن بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہر قیمت پر ایران کو غیر جوہری ریاست بنائے گا۔

ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں ایران کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت خطے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران مختلف ممالک اور شخصیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔

ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی صدر نے اس معاملے کو کینسر سے تشبیہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ "کینسر کا علاج ابتدا میں ہی اسے کاٹ کر جسم سے الگ کرنے میں ہوتا ہے، اور ایران کے بارے میں میری رائے بھی یہی ہے۔” ان کے اس بیان کو مبصرین خطے میں مزید سخت امریکی پالیسی کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

ادھر غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے اور سخت فوجی مؤقف کے اعلان کے فوراً بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی کی فضا پیدا ہوگئی۔ خدشات کے باعث خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ نئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں توانائی کی ترسیل کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو نہ صرف عالمی تیل منڈی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں سکیورٹی صورتحال بھی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ایسے میں عالمی برادری کی توجہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی پر مرکوز ہو گئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related