’جولائی نیشنل چارٹر‘ دراصل جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے مطالبات کو آئینی و قانونی شکل دینے کی ایک کوشش ہے۔ اس چارٹر کا بنیادی مقصد ملک میں گڈ گورننس، جمہوری نظام اور سماجی انصاف کو مضبوط بنانا اور اقتدار کو کسی ایک فرد یا ادارے تک محدود ہونے سے روکنا ہے۔
یہ مسودہ ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں قائم ’نیشنل کنسنسس کمیشن‘ نے مختلف بڑی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا، تاہم عوامی لیگ اس مشاورتی عمل کا حصہ نہیں تھی۔
ریفرنڈم کے دوران عوام سے بیلٹ پیپر پر ایک سوال پوچھا گیا، جس کے جواب میں انہیں ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ کا انتخاب کرنا تھا۔ اس عمل کے ذریعے چار بڑی آئینی ترامیم سمیت تقریباً 30 اصلاحات پر عوامی رائے حاصل کی گئی۔
مجوزہ اصلاحات میں نئے آئینی اداروں کا قیام، پارلیمنٹ کو دو ایوانوں (دو ایوانی نظام) پر مشتمل بنانا، اور ایوانِ بالا (سینیٹ) کی منظوری کے بغیر آئینی ترمیم نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم کی مدت کا تعین اور صدر کے اختیارات میں اضافے کی تجاویز بھی چارٹر کا حصہ ہیں، تاکہ اختیارات کے ارتکاز کو روکا جا سکے اور طاقت کا توازن قائم رکھا جا سکے۔


