لندن سے موصولہ رپورٹ کے مطابق ایران میں جاری جنگ کے برطانیہ کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے بیروزگار ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ رواں برس دو مرتبہ شرح سود میں کمی سے معیشت کو سہارا دینے کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن اب یہ امیدیں دم توڑنے لگی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں بیروزگاری کی شرح پہلے ہی پانچ سال کی بلند ترین سطح 5.2 فیصد پر پہنچ چکی ہے اور اگر جنگ تین ماہ تک جاری رہی تو یہ شرح 5.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
ماہر اقتصادیات کیمز اسمتھ نے کہا کہ جنگ کے دوران توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث اداروں کے کارکنان چھٹی پر جا سکتے ہیں، جبکہ کمپنیوں کے مالکان نئی بھرتیاں روکنے پر مجبور ہو جائیں گے، جس سے معیشت پر مزید دباؤ پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور پیداواری سرگرمیوں میں کمی کاروباری ماحول کو متاثر کریں گی اور اس کے اثرات روزگار کے شعبے پر براہ راست مرتب ہوں گے۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو برطانیہ میں معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے اور حکومت کو فوری اقتصادی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بیروزگاری کی شرح میں اضافے کو روکا جا سکے۔


